جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

اعلی حضرت احمد رضا خاں کی چار زبانوں میں ایک خوبصورت نعت

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا
سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا
منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا

دریا کا پانی اونچا ہے اور موجیں سرکشی پر ہیں میں بے سروسامان ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والا ہے
بھنورمیں پھنس گیا ہوں ہوا بھی مخلالف سمت ہے آپ میری کشتی کو پار لگا دیں

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا

اے سورج میری اندھیری رات کو دیکھ تو جب طیبہ پہنچے تو میری عرض پیش کرنا
کہ آپ کی روشنی سے سارا جہان منور ہو گیا مگر میری شب ختم ہو کر دن نہ بنی

لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بڑھ کر ہےآپ کی زلف گویا چاند کے گرد ہالہ (پوش)ہے
آپ کے صندل جیسے چہرہ پر زلف کا بادل ہے اب رحمت کی بارش برسا ہی دیں

انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا

میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل ہے،اے زلف پاک اے رحمت کے بادل
برسنے والی بارش کی ہلکی ہلکی دو بوندیں مجھ پر بھی گرا جا

یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

اے قافلہ والوں اپنے ٹھہرنے کی مدت زیادہ کرو میں ابھی حسرت زدہ پیاسا ہوں
میرا دل طیبہ سے جانے کی صدا سن کر گھبرا کر تیز تیز ڈھڑک رہا ہے

وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا

افسوس آپ کی بارگاہ میں حضوری کی گھڑیاں تیزی سے گزر گئی
مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں سفر کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر مدنیہ آ رہا تھا

اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا

دل زخمی اور پریشانیاں اندازے سے زیادہ ہیں،دل فریادی اور چاں کمزور ہے
میراے آقا میں اپنی پریشانیاں کس سے کہوں میری جان آپ کے سوا کون ہے جو میری سنے

اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

میری جان آپ پر فدا ہے،عشق کی چنگاری سے مزید بڑھا دیں
میرا جسم دل اور سامان سب کچھ نچھاور ہو گیا اب اس جان کو بھی جلا دیں

بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

رضا کی شاعری نا تجربہ کاراور قلم کمزور ہے ، میرا طور طریقہ اور انداز ایسا نہیں ہے
دوستوں کے اصرار پر میں نے اس طرح کی راہ اختیار کی یعنی چار زبانوں میں شاعری کی

اتوار، 13 ستمبر، 2015

مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے

مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
مئے عشق بھی پلانا مدنی مدنیے والے
میری آنکھ میں سمانا مدنی مدنیے والے
بنے دل تیرے ٹھکانا مدنی مدنیے والے
تیری جبکہ دیدہوگی تبھی میری عیدہوگی
میرے خواب میں تم آنا مدنی مدنیے والے
مجھے سب ستا رہے ہیں میرا دل دکھارہےہیں
تمہیں حوصلہ بڑھانا مدنی مدنیے والے
میرے سب عزیز چھوٹے سبھی یار بھی تو روٹھے
کہیں تم نہ روٹھ جانا مدنی مدنیے والے
میں اگر چہ ہوں کمینہ تیرا ہوں شہہ مدینہ
مجھے سینے سے لگانا مدنی مدنیے والے
کہیں کس سے آہ جاکر سنے کون میرے دلبر
میرے درد کا فسانہ مدنی مدینے والے
کبھی جو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجورپانی
تیرا ایساسادہ کھانا مدنی مدینےوالے
ہے چٹائی کا بچھونا کبھی خاک ہی پہ سونا
کبھی ہاتھ کاسر ہانہ مدنی مدینےوالے
تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں
ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے
یہ مریض مر رہا ہے تیرے ہاتھ میں شفاء ہے
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے
مجھے آفتوں نے گھیرا ، ہے مصیبتوں کا ڈیرہ
یا نبی مدد کو آنا مدنی مدینے والے
میری آنے والی نسلیں تیرے عشق ہی میں مچلیں
انہیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے
تیرے غم میں کاش عطار رہے ہر گھڑی گرفتار
غم مال سے بچانا مدنی مدینے والے

کیا سبز سبز گنبد کا خوب ہے نظارہ

کیا سبز سبز گنبد کا خوب ہے نظارہ 
ہے کس قدر سہانا کیسا ہے پیارا پیارا
ہوتی ہے یہاں چھم چھم برسات نور پیہم 
پرنور سبز گنبد پر نور ہر منارہ
پیش نظر ہو ہر دم بس سبز سبز گنبد 
دل میں بسا رہے جلوہ سدا تمہارا
سائے میں سبز گنبد کے توڑنے بھی دو دم 
چارہ کرو خدارا کوئی کرو نہ چارا
غوث الورٰی کا صدقہ وہ غم مجھے تو دیدے 
روتے ہوئے ہی گزرے سرکار وقت سارا
سینہ بنے مدینہ دل میں بسے مدینہ 
یادوں میں اپنی رکھئے گم یانبی خدارا
مت چھوڑئیے مجھے اب دنیا کی ٹھوکروں پر 
بس آپ ہی کے ٹکڑوں پر ہو مرا گزارا
سرکار حب دنیا سے مرے نکالو 
دیوانہ اب بنا لو اپنا مجھے خدارا
تڑپا کروں سدا میں اے کاش تیرے غم میں 
ہائے مجھے زمانے کے رنج و غم نے مارا
گریہ کناں ہیں یارب شوق مدینہ میں جو 
طیبہ کا کاش ہو بھی کر لیں کبھی نظارہ
رنج و الم کے بادل سارے ہی چھٹ گئے ہیں 
جب بھی تڑپ کے ہم نے سرکار کو پکارا
ٹھکرا دے جس کو دنیا اس کو گلے لگانا 
ہے کام کس کا آقا یا مصطفٰے تمہارا
طیبہ میں اب تو مجھ کو دوگز زمین دیدو 
کب تک پھروں میں در در سرکار مارا مارا
دو دے بقیع دے دو مجھ کو بقیع دے دو 
کر دو سوال پورا یا مصطفٰے خدارا
ہیں مصطفٰے مددگار اے دشمنوں خبردار 
یہ مت سمجھنا پیچھے کوئی نہیں ہمارا
ہے دشمنوں نے گھیرا للہ کوئی پھیرا 
یا مصطفٰے خدارا اب آ کے دو سہارا
کر دے عدو کو غارت حاسد کو دے ہدایت 
یارب ستم کا بڑھتا جاتا ہے تیز دھارا
ظالم ڈرا رہے ہیں آنکھیں دکھا رہے ہیں 
آقا دو جلد آ کر عطارکو سہارا

کوئے نبی سے آ نہ سکے ہم راحت ہی کچھ ایسی تھی

کوئے نبی سے آ نہ سکے ہم راحت ہی کچھ ایسی تھی
یاد رہی نہ جنت ہم کو وہ جنت ہی کچھ ایسی تھی
تکتے رہے یوسف جیسے بھی حشر میں اُن کے چہرے کو
جب پوچھا تو کہنے لگے وہ صورت ہی کچھ ایسی تھی
پاس بُلایا پاس بٹھایا جلوہ دِکھایا خالق نے
یہ تو آخر ہونا ہی تھا چاہت ہی کچھ ایسی تھی
دُنیا میں سرکار کی نعتیں پڑھتے رہے ہر اِک لمحہ
قبر میں بھی تھی نعت لبوں پر عادت ہی کچھ ایسی تھی
قبر میں حاکم جب پہنچے تو ہنس کے نکیروں نے دیکھا
کیوں نہ فرشتے پیار سے ملتے وہ نسبت ہی کچھ ایسی تھی
(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)

نعت نبی Headline Animator

Search for islamic sites